چھوٹا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - کمینہ، نیچ، بد ذات۔ "جو آفت اور بلا ملک پر آئی ہے سو کم ذات اور چھوٹے نوکر اور بے دیانتوں کے سبب سے آئی ہے"۔      ( ١٧٤٦ء، قصہ مہر افروز و دلبر، ٢٦٢ ) ٢ - (مرتبہ، عہدہ یا عمر وغیرہ میں) کم، بڑے کا نقیض۔ "چھوٹا وزیر سیاہ و سفید کا مالک ہے"      ( ١٩٦٣ء، ساڑھے تین یار، ٩٨ ) ٣ - (جسامت، سائز یا وسعت میں) کم، مختصر "ایک روز ایک چھوٹا سا کاغذ کا پرزہ امین کے نام آیا"۔      ( ١٩٨٥ء، ماہ نو، ستمبر، ٣٩ ) ٤ - (آبادی یا رقبے کے لحاظ سے) کم یا محدود۔ "ایک اپنے ملک پر کیا ہے یہ چھوٹا پس ماندہ ملک ہے لیکن جہاں بھی نظر اٹھاؤ یہی ماجرا ہے"۔      ( ١٩٢٤ء، قلمرو، ٣١ ) ٥ - ادنٰی، معمولی، خفیف، ناچیز، بے قدر "میں ہوں تو چھوٹی سی آدمی مگر وعدہ کرتی ہوں کہ جب تک زندہ ہوں پاؤں دھو دھو کر پیوں گی"۔      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٣٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'کشدر کہ' سے ماخوذ ہے۔ اردو میں بطور'چھوٹا' استعمال میں آیا اور اصل صورت میں ١٧٣٢ء کو "کربل کتھا" میں مستعمل ہے"۔

مثالیں

١ - کمینہ، نیچ، بد ذات۔ "جو آفت اور بلا ملک پر آئی ہے سو کم ذات اور چھوٹے نوکر اور بے دیانتوں کے سبب سے آئی ہے"۔      ( ١٧٤٦ء، قصہ مہر افروز و دلبر، ٢٦٢ ) ٢ - (مرتبہ، عہدہ یا عمر وغیرہ میں) کم، بڑے کا نقیض۔ "چھوٹا وزیر سیاہ و سفید کا مالک ہے"      ( ١٩٦٣ء، ساڑھے تین یار، ٩٨ ) ٣ - (جسامت، سائز یا وسعت میں) کم، مختصر "ایک روز ایک چھوٹا سا کاغذ کا پرزہ امین کے نام آیا"۔      ( ١٩٨٥ء، ماہ نو، ستمبر، ٣٩ ) ٤ - (آبادی یا رقبے کے لحاظ سے) کم یا محدود۔ "ایک اپنے ملک پر کیا ہے یہ چھوٹا پس ماندہ ملک ہے لیکن جہاں بھی نظر اٹھاؤ یہی ماجرا ہے"۔      ( ١٩٢٤ء، قلمرو، ٣١ ) ٥ - ادنٰی، معمولی، خفیف، ناچیز، بے قدر "میں ہوں تو چھوٹی سی آدمی مگر وعدہ کرتی ہوں کہ جب تک زندہ ہوں پاؤں دھو دھو کر پیوں گی"۔      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٣٢ )

جنس: مذکر