چھپڑ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - تالاب، جوہڑ۔ "کبوتر اور مینڈک کا تماشا وہ جنگل اور دریا یا چھپڑ پر جا کر کرتے ہیں۔"      ( ١٩٠٨ء، اساس اخلاق، ٦٢٥ ) ٢ - وہ برساتی پانی جو اکثر گڑھوں میں بھر جاتا ہے اور ان میں سنگھاڑے کنول بو دیتے ہیں۔ (جامع اللغات) ٣ - چھپر       کر آج تو یہ حکم کہ چھپڑوں کو چھڑک سوئین دل سوختہ اس رات کوئی آہ کرے گا     رجوع کریں:  چھپر ( ١٧٩٨ء، سوز، دیوان، ٢٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ'چھتورہ' سے ماخوذ 'چھپر' کا ایک تلفظ 'چھپڑ' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩٨ء کو "دیوان سوز" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تالاب، جوہڑ۔ "کبوتر اور مینڈک کا تماشا وہ جنگل اور دریا یا چھپڑ پر جا کر کرتے ہیں۔"      ( ١٩٠٨ء، اساس اخلاق، ٦٢٥ )

اصل لفظ: چَھپَّر
جنس: مذکر