چھچھورا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - کم ظرف، پیٹ کا ہلکا؛ سفلہ، اچھا؛ ذلیل، کمینہ، رذیل۔ اہل محلہ اسے چھچورا اور آوارہ مزاج سمجھنے لگے تھے" ٢ - خود نما، نمودیا، نمائشی، عامیانہ خیالات رکھنے اور اظہار کرنے والا۔ "ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے اور مسکرائیں گے گویا سفلہ اور چھچھورا سمجھیں گے"      ( ١٨٩٨ء، آب حیات، ١٠٨ ) ٣ - غیر مہذب، مبتذل، غیر معیاری؛ کم مرتبہ۔ "بعض رنگ اپنی اپنی جگہ . بہت خوبصورت ہوں گے لیکن ان کو ملا کر پہننے سے عجیب چھچھورا سا تاثر پیدا ہوگا"      ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلوپیڈیا، ٤٧٥ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'تُچَّھک+ر+کہ' سے ماخوذ 'چھچھورا' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٧٨٠ء کو "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کم ظرف، پیٹ کا ہلکا؛ سفلہ، اچھا؛ ذلیل، کمینہ، رذیل۔ اہل محلہ اسے چھچورا اور آوارہ مزاج سمجھنے لگے تھے" ٢ - خود نما، نمودیا، نمائشی، عامیانہ خیالات رکھنے اور اظہار کرنے والا۔ "ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے اور مسکرائیں گے گویا سفلہ اور چھچھورا سمجھیں گے"      ( ١٨٩٨ء، آب حیات، ١٠٨ ) ٣ - غیر مہذب، مبتذل، غیر معیاری؛ کم مرتبہ۔ "بعض رنگ اپنی اپنی جگہ . بہت خوبصورت ہوں گے لیکن ان کو ملا کر پہننے سے عجیب چھچھورا سا تاثر پیدا ہوگا"      ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلوپیڈیا، ٤٧٥ )

اصل لفظ: تُچَّھک
جنس: مذکر