چھڑا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - تنہا۔ اکیلا۔  فرہاد وقیس ساتھ کے سب کب کے چل بسے دیکھیں نباہ کیونکہ ہو اب ہم چھڑے رہے      ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٣٠٩ ) ٢ - کنوارا، جس نے شادی نہ کی ہو۔ "دراصل مجھ سے ٹیکنیکل غلطی ہوئی ہے میں اکیلا نہیں چھڑا ہوں"      ( ١٩٧٥ء، بسلامت روی، ٣٠٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چھوٹی' سے ماخوذ 'چھوڑنا' سے فعل متعدی 'چھڑانا' کی تخفیف 'چھڑا' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٧٠٧ء، کو "کلیات بحری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - کنوارا، جس نے شادی نہ کی ہو۔ "دراصل مجھ سے ٹیکنیکل غلطی ہوئی ہے میں اکیلا نہیں چھڑا ہوں"      ( ١٩٧٥ء، بسلامت روی، ٣٠٠ )

جنس: مذکر