چھڑنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - کسی چیز یا بات کا شروع ہونا، آغاز ہونا، ابتدا ہونا۔  بے اثر کب رہی داستان وفا جب چھڑی سننے والوں کو نیند آ گئٍ      ( ١٩٥٨ء، تارپیراہن، ١١٥ ) ٢ - (نغمہ گیت غزل وغیرہ) گایا جانا، گانا شروع ہونا۔ "ایک غزل ختم ہوئی دوسری شروع ہوئی دوسری گا چکی تیسری چھڑی، کبھی ٹھمری کبھی ٹپا۔"      ( ١٨٨٠ء، فسانۂ آزاد، ١٧٣:١ ) ٣ - ساز پر کسی دھن کا بجنا، ساز پر راگ شروع ہونا۔  یورپ میں جس گھڑی حق و باطل کی چھڑ گئی حق خنجر آزمائی پہ مجبور ہو گیا      ( ١٩٢٤ء، بانگ درا، ٢٤٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'کشپت' سے ماخوذ 'چھیڑنا' کا لازم 'چھڑنا' بنا۔ اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے۔ ١٦٧٨ء کو "کلیات غواصی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - (نغمہ گیت غزل وغیرہ) گایا جانا، گانا شروع ہونا۔ "ایک غزل ختم ہوئی دوسری شروع ہوئی دوسری گا چکی تیسری چھڑی، کبھی ٹھمری کبھی ٹپا۔"      ( ١٨٨٠ء، فسانۂ آزاد، ١٧٣:١ )