چھڑوانا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - چھوڑنا کا تعدیہ۔ "تیرے رخش کو میرے ملازم چرا لائے اور گھوڑی پر میں نے چھڑوایا ہے۔"      ( ١٨٤٥ء، مطلع العلوم (ترجمہ)، ٨٧ ) ٢ - جدا کرنا، علیحدہ کرانا۔  یعنی چھڑواؤ اوس سے شوہر کو مہ سے ملواؤ تم بھی اختر کو      ( ١٨٦١ء، کلیات اختر، ٩٦٣ ) ٣ - آزاد کرانا، پابندی ختم کرانا۔ "دہلی میں مولوی نذیر احمد میر امن کے تلطف سے ناول اور افسانے کو فوراً ہی پرانے تکلفات سے چھڑا لائے۔"      ( ١٩٦٢ء، میزان، ٨٠ ) ٤ - دھوم دھام کرنا؛ آتشبازی دغوانا۔  مہتاب لاؤں چرخ سے جو تم بنو عروس چھڑواؤں آسمان کی چرخی برات میں      ( ١٨٧٤ء، فیض نشاں، ١٢٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چھوٹی' سے ماخوذ 'چھوڑنا' سے فعل متعدی 'چھڑانا' کی تخفیفی شکل 'چھڑ' کے ساتھ 'وانا' بطور لاحقۂ مصدر لگانے سے 'چھڑوانا' بنا۔ ١٨٤٥ء کو "مطلع العلوم (ترجمہ)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چھوڑنا کا تعدیہ۔ "تیرے رخش کو میرے ملازم چرا لائے اور گھوڑی پر میں نے چھڑوایا ہے۔"      ( ١٨٤٥ء، مطلع العلوم (ترجمہ)، ٨٧ ) ٣ - آزاد کرانا، پابندی ختم کرانا۔ "دہلی میں مولوی نذیر احمد میر امن کے تلطف سے ناول اور افسانے کو فوراً ہی پرانے تکلفات سے چھڑا لائے۔"      ( ١٩٦٢ء، میزان، ٨٠ )