چھکڑا
معنی
١ - دو پہیوں کی لمبی گاڑی جس میں بیل جوتے جاتے ہیں اور جو بار برداری کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ "نواب وزیر جب سفر میں ہوتے تو نوابی خیموں کے ساتھ ان کے خیمے بھی شاہانہ شکوہ سے چھکڑوں پر لدلد کر روانہ ہوتے" ( ١٩٩٨ء، نگاہ اور نقطے، ١١٢ ) ٢ - وہ چیز جس کے انجر پنجر ڈھیلے ہوں، وہ چیز جو کام دیتے دیتے چرخہ ہو جائے۔ "میں اور شیخ صاحب شام کے وقت ان کی چھکڑا موٹر میں سیر کے لیے نکل جاتے" ( ١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ٢٢٣ ) ٥ - [ استعارۃ ] طول طویل، لمبا چوڑا (معاملہ قصہ وغیرہ)۔ "کوئی قصہ نہ جھگڑا لڑکی نے بنا دیا چھکڑا" ( ١٩٠١ء، راقم، عقد ثریا، ٣١ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے لفظ 'شکٹ+کہ' ماخوذ 'چھکڑا' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٦٥ء کو "علی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دو پہیوں کی لمبی گاڑی جس میں بیل جوتے جاتے ہیں اور جو بار برداری کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ "نواب وزیر جب سفر میں ہوتے تو نوابی خیموں کے ساتھ ان کے خیمے بھی شاہانہ شکوہ سے چھکڑوں پر لدلد کر روانہ ہوتے" ( ١٩٩٨ء، نگاہ اور نقطے، ١١٢ ) ٢ - وہ چیز جس کے انجر پنجر ڈھیلے ہوں، وہ چیز جو کام دیتے دیتے چرخہ ہو جائے۔ "میں اور شیخ صاحب شام کے وقت ان کی چھکڑا موٹر میں سیر کے لیے نکل جاتے" ( ١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ٢٢٣ ) ٥ - [ استعارۃ ] طول طویل، لمبا چوڑا (معاملہ قصہ وغیرہ)۔ "کوئی قصہ نہ جھگڑا لڑکی نے بنا دیا چھکڑا" ( ١٩٠١ء، راقم، عقد ثریا، ٣١ )