چھینٹ
معنی
١ - کسی رقیتں چیز کے گرنے کا نشان، بوند۔ "تارپین کے تیل کی چھینٹ آنکھ میں نہ پڑ جائے" ( ١٩٦٧ء، لکڑی کا کام، ٥٥:٣ ) ٢ - داغ، دھبّا۔ "لباس کو رنگ کی چھینٹوں سے بچانے کے لیے اپیرن پہن لیں تو بہتر ہے" ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلوپیڈیا، ٤٩٩ ) ٣ - رنگ برنگ کے پھول بوٹوں کا خوش وضع اور خوش نما چھپا ہوا کپڑا۔ "وہ ہمیشہ چھینٹ کی شلوار اور ململ کا سیاہ کرتا پہنتی تھی" ( ١٩٨١ء، راجہ گدھ، ١٨٩ ) ٤ - [ مدکی ] ذراسی مدک جسے چلم قلیان میں آگ تلے رکھ کر دم لگاتے ہیں، مدک کا دم۔ "دوپیالے تاڑی اور دو چھینٹ مدک ضرور اڑائیں گے" ( ١٩٠٤ء، عصر جدید، جنوری، ٢٧ ) ٥ - مشابہت، شباہت۔ "اس میں بھی عریاں نگارہی ہے مگر فحاشی کی چھینٹ تک نہیں" ( ١٩٥١ء، چھان بین، ٢٩١ ) ٦ - بقایا، باقی؛ مہینے کے فالتو دن؛ ہاتھ سے بیج کو بکھیر کر بونے کا طریقہ، بکھیر۔ (جامع اللغات؛ اصطلاحات پیشہ وراں، 61:6)
اشتقاق
سنسکرت زبان کے لفظ 'سپرشٹ' سے ماخوذ 'چھینٹ' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٦٥ء کو "پھول بن" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کسی رقیتں چیز کے گرنے کا نشان، بوند۔ "تارپین کے تیل کی چھینٹ آنکھ میں نہ پڑ جائے" ( ١٩٦٧ء، لکڑی کا کام، ٥٥:٣ ) ٢ - داغ، دھبّا۔ "لباس کو رنگ کی چھینٹوں سے بچانے کے لیے اپیرن پہن لیں تو بہتر ہے" ( ١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلوپیڈیا، ٤٩٩ ) ٣ - رنگ برنگ کے پھول بوٹوں کا خوش وضع اور خوش نما چھپا ہوا کپڑا۔ "وہ ہمیشہ چھینٹ کی شلوار اور ململ کا سیاہ کرتا پہنتی تھی" ( ١٩٨١ء، راجہ گدھ، ١٨٩ ) ٤ - [ مدکی ] ذراسی مدک جسے چلم قلیان میں آگ تلے رکھ کر دم لگاتے ہیں، مدک کا دم۔ "دوپیالے تاڑی اور دو چھینٹ مدک ضرور اڑائیں گے" ( ١٩٠٤ء، عصر جدید، جنوری، ٢٧ ) ٥ - مشابہت، شباہت۔ "اس میں بھی عریاں نگارہی ہے مگر فحاشی کی چھینٹ تک نہیں" ( ١٩٥١ء، چھان بین، ٢٩١ )