چہرہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مکھڑا، صوررت۔ "چہرے سے بیس پچیس سال کی جوان معلوم ہوتی ہے"      ( ١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، الٹی قبر، ١٦٢ ) ٢ - حلیہ جو رجسٹروں میں درج ہو، ملازموں کے خال و خط جو دفتر میں لکھے جائیں۔ "محکمہ جات . فوج. بخشی خانہ، چہرہ، کمیدان، حوالدار، پیادہ، سوار، رسالدار"      ( ١٩٤٠ء، جائزہ زبان اردو، ٤٢ ) ٣ - نفری، گنتی۔  جو چہروں کی کی اس نے سب وا گرفت کہا فوج ہے بست ہزار اور ہفت      ( ١٧٩٤ء، جنگ نامہ دو جوڑا، ٥٤ ) ٤ - لفظ کے حروف کے اعراب کا اندراج تاکہ صحیح پڑھا جاسکے۔ "ہر ہر لفظ کے صحیح اعراب و تشکیل، لفظ بالحروف (چہرہ). وغیرہ کا بیان . تصریح کے ساتھ کیا گیا ہے"      ( ١٩٣٥ء، نغمۂ عنادل، پشت سر ورق ) ٥ - مصنوعی نقشہ، روپ، شکل۔  سجالائے اس وقت ہولی کا سانگ تو جھرمٹ تھا چہروں کا بھرتے تھے سانگ      ( ١٧٩٤ء، جنگ نامہ دو جوڑا، ٦٩ ) ٦ - فرد، شخص، کردار، اداکار۔  تلاش ہے کئی چہروں کی کاوراں میں مجھے اس انتظار میں ہوں کم ذرا غبار تو ہو      ( ١٩٧٩ء، زخم ہنر، ١٢٧ ) ٧ - تمہید، ابتدا، آغاز (مرثیے کے لیے مخصوص) "مرثیہ کے صمنی مضامین میں مرثیوں کا چہرہ ہے یعنی ابتدا کسی مناسب مضمون سے کرنا"      ( ١٩٥٨ء، شادکی کہانی شاد کی زبانی، ١٥٥ ) ٨ - دیوار یا عمارت کا بیرونی رُخ۔ "چہرہ اور تہ کے آڑے رخ کی اینٹوں یا پتھروں کی سطحات کو اطراف کہتے ہیں۔"      ( ١٩٤٨ء، رسالہ رڑکی چنائی، ٢:١ ) ١٠ - گھنٹے یا گھڑی کا وقت بتانے والا نقشہ جس پر گھنٹے، منٹ اور سکنڈ کے نشان بنے ہوتے ہیں اور سوئیاں گھومتی ہیں، ڈائل۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 166:1) ١١ - سر، گردن اور شانوں تک کا حصہ یاتصویر، حلیہ۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 171:4) ١٢ - شکاری پرندے کو شکار کیے ہوئے پرند کا خون چکھانے کا عمل۔ "جو جانور مارے اوس کے خوں سے آبدارہ تر کر کے کھلاوے اس ترکیب کو چہرہ کہتے ہیں"      ( ١٨٨٣ء، صید گاہ شوکتی، ٩٥ ) ١٣ - سکے کی تصویر والا رخ۔ "میں ٹاس کرتا ہوں اگر چہرہ آیا تو سینما چلیں گے"      ( ١٩٤٨ء، پرواز، ٢٤ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ لفظ عربی رسم الخط کے ساتھ اردو میں اپنے اصل معنی اور حالت کے ساتھ بطور اسم مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - مکھڑا، صوررت۔ "چہرے سے بیس پچیس سال کی جوان معلوم ہوتی ہے"      ( ١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، الٹی قبر، ١٦٢ ) ٢ - حلیہ جو رجسٹروں میں درج ہو، ملازموں کے خال و خط جو دفتر میں لکھے جائیں۔ "محکمہ جات . فوج. بخشی خانہ، چہرہ، کمیدان، حوالدار، پیادہ، سوار، رسالدار"      ( ١٩٤٠ء، جائزہ زبان اردو، ٤٢ ) ٤ - لفظ کے حروف کے اعراب کا اندراج تاکہ صحیح پڑھا جاسکے۔ "ہر ہر لفظ کے صحیح اعراب و تشکیل، لفظ بالحروف (چہرہ). وغیرہ کا بیان . تصریح کے ساتھ کیا گیا ہے"      ( ١٩٣٥ء، نغمۂ عنادل، پشت سر ورق ) ٧ - تمہید، ابتدا، آغاز (مرثیے کے لیے مخصوص) "مرثیہ کے صمنی مضامین میں مرثیوں کا چہرہ ہے یعنی ابتدا کسی مناسب مضمون سے کرنا"      ( ١٩٥٨ء، شادکی کہانی شاد کی زبانی، ١٥٥ ) ٨ - دیوار یا عمارت کا بیرونی رُخ۔ "چہرہ اور تہ کے آڑے رخ کی اینٹوں یا پتھروں کی سطحات کو اطراف کہتے ہیں۔"      ( ١٩٤٨ء، رسالہ رڑکی چنائی، ٢:١ ) ١٢ - شکاری پرندے کو شکار کیے ہوئے پرند کا خون چکھانے کا عمل۔ "جو جانور مارے اوس کے خوں سے آبدارہ تر کر کے کھلاوے اس ترکیب کو چہرہ کہتے ہیں"      ( ١٨٨٣ء، صید گاہ شوکتی، ٩٥ ) ١٣ - سکے کی تصویر والا رخ۔ "میں ٹاس کرتا ہوں اگر چہرہ آیا تو سینما چلیں گے"      ( ١٩٤٨ء، پرواز، ٢٤ )

جنس: مذکر