چہکار

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - پرندوں کی (صبح کے وقت یا بہار میں خوشی) کی آواز، پرندوں کا چہچہنا، نواسنجی، نغمہ سرائی۔ "آخر ٣ فروری کی صبح شاہ جہاں آباد کے اس آخری بلبل رنگیں نوانے جس کی چہکار ایک عالم کو مسخر کر رہی تھی . داعی اجل کو لبیک کہا"      ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٢٧ )

اشتقاق

اردو اسم صوت 'چہ' کے ساتھ 'کار' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے 'چہکار' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٦١ء کو "فسانۂ عبرت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پرندوں کی (صبح کے وقت یا بہار میں خوشی) کی آواز، پرندوں کا چہچہنا، نواسنجی، نغمہ سرائی۔ "آخر ٣ فروری کی صبح شاہ جہاں آباد کے اس آخری بلبل رنگیں نوانے جس کی چہکار ایک عالم کو مسخر کر رہی تھی . داعی اجل کو لبیک کہا"      ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٢٧ )

جنس: مؤنث