چہکنا

قسم کلام: اسم صوت

معنی

١ - چہچہا، سیٹی، صغیر، آتش بازی کی آواز۔ (پلیٹس، جامع اللغات)۔ ١ - پرندوں کا چہچہانا، چہکنا، نغمہ سرائی کرنا۔  تو بھی تو داغ دل مہک تو بھی تو مرغ جاں چہک      ( ١٩٨٥ء، درپن درپن، ١٣٢ ) ٢ - آتش بازی کا چھوٹتے ہوئے آواز دینا۔ (پلیٹس، جامع اللغات)۔

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ اسم 'چہک' کے ساتھ 'نا' بطور لاحقۂ مصدر و کیفیت لگانے سے 'چہکنا' بنا۔ اردو میں بطور فعل اور گا ہے بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٤ء کو "مراثی انیس" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: چَہک
جنس: مذکر