چیرنا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - پھاڑنا، ٹکڑے، کرنا، شگاف دینا، شق کرنا، کھومنا۔  اس عظم رمیم سے ہما ہمی نکلا دل بندے کا چیرا تو خدا ہی نکلا      ( ١٩٤٧ء، رباعیات امجد، ٦٤:٢ ) ٢ - چرانا (مال وغیرہ کے ساتھ)۔ "ارے یارو ذرا اور مال چیرا جائے تو لطف ہو"      ( ١٨٨٩ء، سیر کہسار، ٤٢٩:١ ) ٣ - پیرنا، پانی کاٹنا۔  سمندر کو نہ چیروگے خدا کا نام اگر لے کر یقین مانو کہ ساحل تک سفینہ بھی نہ آئے گا      ( ١٩٣٨ء، چمنستان، ١٩٨ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چیری' سے ماخوذ 'چیر' کے ساتھ اردو قاعدے کے تحت علامتِ مصدر 'نا' ملنے سے 'چیرنا' بنا۔ اردو میں بطور فعل مستعمل ہے۔ ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - چرانا (مال وغیرہ کے ساتھ)۔ "ارے یارو ذرا اور مال چیرا جائے تو لطف ہو"      ( ١٨٨٩ء، سیر کہسار، ٤٢٩:١ )

اصل لفظ: چیری