چیز

قسم کلام: اسم جامد

معنی

١ - شے، جنس، سامان۔ "ڈراینگ روم میں بھونپو والا آلہ فوٹو گراف مع قوالیوں نعتوں تھیٹر کی چیزوں اور غزلوں کے ریکارڈوں کے انبار کے موجود تھا"      ( ١٩٧٦ء، سالنامہ نقوش، لاہور، جنوری، ٦٤ ) ٢ - زیور، جواہر، گہنا پانا۔ "کیا خدا نہ کرے بیچ ڈالنے کی نیت ہے . چیز صندوقچے نہ پڑی رہی مہاجن کے پاس رکھی رہی"      ( ١٨٦٧ء، مراۃ العروس، ١٤٣ ) ٣ - گیت؛ راگ، ٹھمری، ٹپہ، غزل۔ "سکھیاں ایک صف میں کھڑی ہو کرنا ٹک کی تصنیف کی ہوئی کوئی چیز گائیں"      ( ١٩٥٧ء، لکھنو کی شاہی اسٹیج، ٩٠ ) ٥ - حقیقت، وقعت، رونق۔ "دیکھیں تو سہی تم ہو کیا چیز? جس شخص کی یہ راہ نہ ہو وہ حکمت میں کوئی چیز نہیں"      ( ١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ١٣ ) ٦ - مٹھائی شیرنی (جو بچوں کو دی جائے)۔ "اجی حضرت ہمیں تو بھوک لگی ہے، چیز دو"      ( ١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ٣٢ ) ٧ - (بڑی کے ساتھ) قرآن شریف۔ "جب بڑی چیز کہیں گی تو قرآن شریف سے مراد ہو گی"      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات، ٥٧٦:٢ ) ٨ - دوست ہم جنس، ساتھی، رفیق۔ "آپ تو ہماری چیز ہیں ہم سے بچ کر کہاں جائیں گے"      ( ١٨٩٢ء، سفرنامہ روم و مصر و شام، ١١٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اپنی اصل حالت اور اصل معنی کے ساتھ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٠٣ء کو "شرح تمہیدات ہمدانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شے، جنس، سامان۔ "ڈراینگ روم میں بھونپو والا آلہ فوٹو گراف مع قوالیوں نعتوں تھیٹر کی چیزوں اور غزلوں کے ریکارڈوں کے انبار کے موجود تھا"      ( ١٩٧٦ء، سالنامہ نقوش، لاہور، جنوری، ٦٤ ) ٢ - زیور، جواہر، گہنا پانا۔ "کیا خدا نہ کرے بیچ ڈالنے کی نیت ہے . چیز صندوقچے نہ پڑی رہی مہاجن کے پاس رکھی رہی"      ( ١٨٦٧ء، مراۃ العروس، ١٤٣ ) ٣ - گیت؛ راگ، ٹھمری، ٹپہ، غزل۔ "سکھیاں ایک صف میں کھڑی ہو کرنا ٹک کی تصنیف کی ہوئی کوئی چیز گائیں"      ( ١٩٥٧ء، لکھنو کی شاہی اسٹیج، ٩٠ ) ٥ - حقیقت، وقعت، رونق۔ "دیکھیں تو سہی تم ہو کیا چیز? جس شخص کی یہ راہ نہ ہو وہ حکمت میں کوئی چیز نہیں"      ( ١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ١٣ ) ٦ - مٹھائی شیرنی (جو بچوں کو دی جائے)۔ "اجی حضرت ہمیں تو بھوک لگی ہے، چیز دو"      ( ١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ٣٢ ) ٧ - (بڑی کے ساتھ) قرآن شریف۔ "جب بڑی چیز کہیں گی تو قرآن شریف سے مراد ہو گی"      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات، ٥٧٦:٢ ) ٨ - دوست ہم جنس، ساتھی، رفیق۔ "آپ تو ہماری چیز ہیں ہم سے بچ کر کہاں جائیں گے"      ( ١٨٩٢ء، سفرنامہ روم و مصر و شام، ١١٩ )

جنس: مؤنث