ڈار

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - جانوروں کا گلّہ، ہرنوں کی قطار، پرندوں کا پرا۔ "عوام کے گیتوں میں جاڑے، گرمی اور خاص کر برسات کی کیفیات . کُنجوں کی ڈار . وہ سب کچھ ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، اردو گیت، ٩٦ ) ٢ - [ کنایتا ]  انسانوں کا ہجوم۔ "دوستوں کی ایک ڈار تھی کہ دن اور رات کے ہر پہر میں اس کے ساتھ چلتی تھی۔"      ( ١٩٧٦ء، ہجر کی رات کا ستارا، ٤٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں اپنے اصل معنی کے ساتھ عربی رسم الخط میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٧٦٩ء میں "آخرگشت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جانوروں کا گلّہ، ہرنوں کی قطار، پرندوں کا پرا۔ "عوام کے گیتوں میں جاڑے، گرمی اور خاص کر برسات کی کیفیات . کُنجوں کی ڈار . وہ سب کچھ ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، اردو گیت، ٩٦ ) ٢ - [ کنایتا ]  انسانوں کا ہجوم۔ "دوستوں کی ایک ڈار تھی کہ دن اور رات کے ہر پہر میں اس کے ساتھ چلتی تھی۔"      ( ١٩٧٦ء، ہجر کی رات کا ستارا، ٤٧ )