ڈالا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - درخت کی موٹی اور بڑی شاخ، ٹہنا۔  میووں سے گرانبار وہ اشجار کے ڈالے بکھرے ہوئے وہ دامن کہسار پہ لالے      ( ١٩٢٦ء، چکبست، صبح و طن، ١٦٤ ) ٢ - چھوٹے منھ اور پھیلواں بڑے پیٹ کا ٹوکرا جس میں چڑی مارنپا پکڑا ہوا جانور بند رکھتے ہیں، بکھار، ڈھلکا۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 6:3) ٣ - [ طباعت ]  پریس کا وہ حصہ جس پر کاغذ رکھے جاتے ہیں اور جو نمدے یا بانات سے منڈھا ہوتا ہے۔ "ٹائپ پریس کا ڈالا بھی بغیر منڈھا ہوا آتا ہے۔"      ( ١٩٠٧ء، مخزن القوائد،٨٢:٢ )

اشتقاق

اصلاً پراکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں پراکرت سے ماخوذ ہے اصل معنی میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٧٨ء کو "کلیات غواصی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - [ طباعت ]  پریس کا وہ حصہ جس پر کاغذ رکھے جاتے ہیں اور جو نمدے یا بانات سے منڈھا ہوتا ہے۔ "ٹائپ پریس کا ڈالا بھی بغیر منڈھا ہوا آتا ہے۔"      ( ١٩٠٧ء، مخزن القوائد،٨٢:٢ )

جنس: مذکر