ڈاڑھ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - چپٹا پچھلا دانت جو جبڑے کے جوڑ کے پاس ہوتا ہے اور جس سے غذا چبائی جاتی ہے۔ "آج کئی دن سے میری ڈاڑھ میں ایسا درد ہے کہ کچھ کھایا نہیں جاتا۔"      ( ١٩٦٨ء، مہذب اللغات، ٣٣٤:٥ ) ٢ - چاپ، قفل کے کڑے کے منہ کا کھانچہ جس میں قفل کا ہڑکا اٹک جاتا ہے کڑے کو بند رکھتا ہے۔ (اصطلاحاتِ پیشہ وراں، 3:7)

اشتقاق

پراکرت زبان کے لفظ 'ڈاڑھا' سے ماخوذ اسم ہے یہ قیاس بھی کیا جاتا ہے۔ کہ سنسکرت کے لفظ 'ڈنشڑا' سے اخذ ہوا مگر اغلب یہی ہے کہ اس کا ماخذ پراکرت لفظ ہے۔ اردو میں اصل معنی کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے (تحریراً) ١٨٤٥ء میں "مجمع الفنون" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چپٹا پچھلا دانت جو جبڑے کے جوڑ کے پاس ہوتا ہے اور جس سے غذا چبائی جاتی ہے۔ "آج کئی دن سے میری ڈاڑھ میں ایسا درد ہے کہ کچھ کھایا نہیں جاتا۔"      ( ١٩٦٨ء، مہذب اللغات، ٣٣٤:٥ )

اصل لفظ: ڈاڑھا
جنس: مؤنث