ڈبل

قسم کلام: اسم کیفیت ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - [ عسکری ]  تیز چلنے کی ایک مقررہ رفتار، ڈبل مارچ، دوڑ۔ "ہم خاموشی سے قطاروں میں کھڑے ہوگئے اور پی ٹی شروع ہوئی پہلے تو ہمیں میدان کے ارد گرد دوڑایا گیا یعنی ڈبل کرایا گیا (ڈبل کے یہ معنی ہمیں پہلی دفعہ معلوم ہوئے)۔"١٩٦٥ء، بجنگ آمد، ٣٩ ٢ - علاقہ آگرہ و اودھ میں تین پائی والے انگریزی پیسے کا اصطلاحی نام، ڈبل پیسہ۔ "مولا کے نام پر ایک ڈبل دیتی جایئے۔"      ( ١٩٥٦ء، آگ کا دریا، ٤٥٤ ) ١ - دُگنا، دو چند، دُہرا۔ "آج ڈبل خوشی کا دن ہے۔"      ( ١٩٨١ء، قطب نما، ٦٠ ) ٢ - فربہ، موٹا۔ "کالا ڈبل کُتا موٹر سے کود پڑا۔"      ( ١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ٣٢ ) ٣ - تیز (چال) کے لیے مستعمل۔ "مگر وہ تو ڈبل جا رہا تھا۔"      ( ١٩٣١ء، روحِ لطافت، ١٠٦ ) ٤ - چالاک، فطرتی۔ "ارے وہ بہت ڈبل ہے تم ایسوں کو تو کھڑے کھڑے بیچ لے۔"      ( ١٩٦٨ء، مہذب اللغات، ٣٤٩:٥ )

اشتقاق

انگریزی زبان سے اسم صفت ہے۔ جو اردو میں اپنے اصل مفہوم کے ساتھ عربی رسم الخط میں بطور صفت نیز بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٨٠ء میں "آب حیات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ عسکری ]  تیز چلنے کی ایک مقررہ رفتار، ڈبل مارچ، دوڑ۔ "ہم خاموشی سے قطاروں میں کھڑے ہوگئے اور پی ٹی شروع ہوئی پہلے تو ہمیں میدان کے ارد گرد دوڑایا گیا یعنی ڈبل کرایا گیا (ڈبل کے یہ معنی ہمیں پہلی دفعہ معلوم ہوئے)۔"١٩٦٥ء، بجنگ آمد، ٣٩ ٢ - علاقہ آگرہ و اودھ میں تین پائی والے انگریزی پیسے کا اصطلاحی نام، ڈبل پیسہ۔ "مولا کے نام پر ایک ڈبل دیتی جایئے۔"      ( ١٩٥٦ء، آگ کا دریا، ٤٥٤ ) ١ - دُگنا، دو چند، دُہرا۔ "آج ڈبل خوشی کا دن ہے۔"      ( ١٩٨١ء، قطب نما، ٦٠ ) ٢ - فربہ، موٹا۔ "کالا ڈبل کُتا موٹر سے کود پڑا۔"      ( ١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ٣٢ ) ٣ - تیز (چال) کے لیے مستعمل۔ "مگر وہ تو ڈبل جا رہا تھا۔"      ( ١٩٣١ء، روحِ لطافت، ١٠٦ ) ٤ - چالاک، فطرتی۔ "ارے وہ بہت ڈبل ہے تم ایسوں کو تو کھڑے کھڑے بیچ لے۔"      ( ١٩٦٨ء، مہذب اللغات، ٣٤٩:٥ )

اصل لفظ: Double