ڈبونا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - گہرائی میں اُتارنا۔  اس قدر چشمِ خلائق میں سُبک ہوں کہ اگر ڈوبنے جاؤں تو دریانہ ڈبوئے مُج کو      ( ١٨٢٤ء، دیوانِ مصحفی، ١٩٢ ) ٢ - چُھبونا۔ "عبدالخالق بٹ کو گاڑی کے نیچے لایا گیا اور پھر مارپیٹ کرکے اُسے پانی نی ڈبو دیا گیا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٨٧٥ ) ٣ - خراب کرنا، بھرم کھونا، بے عزت کرنا۔  ہمارے تشخّص نے کھویا ہمیں ہماری خودی نے ڈبویا ہمیں      ( ١٩١١ء، کلیاتِ اسماعیل، ١١ ) ٤ - ضائع کرنا، رسوا کرنا۔ "اس کمبخت نے تو اپنے ساتھ تعلیم نسواں کو بھی ڈبویا۔"      ( ١٩١٥ء، گردابِ حیات، ٣٧ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ فعل 'ڈوبنا' کا تعدیہ ہے جو اردو میں بطور فعل متعدی استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٥٠٣ء میں "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - چُھبونا۔ "عبدالخالق بٹ کو گاڑی کے نیچے لایا گیا اور پھر مارپیٹ کرکے اُسے پانی نی ڈبو دیا گیا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٨٧٥ ) ٤ - ضائع کرنا، رسوا کرنا۔ "اس کمبخت نے تو اپنے ساتھ تعلیم نسواں کو بھی ڈبویا۔"      ( ١٩١٥ء، گردابِ حیات، ٣٧ )

اصل لفظ: ڈُوبنا