ڈبکنی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - غوطہ، پانی کے اندر جانا، ڈبکی۔ "سارنگ نے پھر فائر کیا، بطخوں نے پھر ڈبکی لگائی۔"      ( ١٩٦٢ء،در دلکشا، ١٢٧ ) ٢ - ڈبکنی کشتی، آبدوز۔ "جاپان کی چھوٹی ڈبکنیاں بندر گاہ . پر حملہ آور ہوئیں۔"      ( ١٩٤٣ء، آج کل، دہلی، یکم جون، ٤ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'ڈبک' کے ساتھ 'نی' بطور لاحقۂ تانیث لگانے سے 'ڈبکنی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٤٣ء کو "آج کل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غوطہ، پانی کے اندر جانا، ڈبکی۔ "سارنگ نے پھر فائر کیا، بطخوں نے پھر ڈبکی لگائی۔"      ( ١٩٦٢ء،در دلکشا، ١٢٧ ) ٢ - ڈبکنی کشتی، آبدوز۔ "جاپان کی چھوٹی ڈبکنیاں بندر گاہ . پر حملہ آور ہوئیں۔"      ( ١٩٤٣ء، آج کل، دہلی، یکم جون، ٤ )

جنس: مؤنث