ڈبکی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - غوطہ یہ بیونت اور یہ کتر یہ کانٹ چھانٹ ابتری شناوروں کی ڈُبکیاں بہادروں کی تھرتھری ( ١٩٤٧ء، سرد و خروش، ٣٣٩ )
اشتقاق
پراکرت زبان سے ماخوذ فعل 'ڈوبنا' کے حاصل مصدر 'ڈُوب' کی تخفیف 'ڈُب' کے آخر پر لاحقہ اسمیت 'ک' لگانے سے ڈُبَک بنا جس کے آگے 'ی' بطور لاحقۂ تصغیر لگانے سے 'ڈُبکی' بنا۔ جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩١٦ء تحریراً کو "بازار حسن" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: ڈُوبْنا
جنس: مؤنث