ڈر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خوف، خطرہ، اندیشہ، دہشت۔ "اس کے (سوتیلی ماں) ڈر نے امجد کو بچپن ہی سے ڈرپوک بنا دیا تھا۔"      ( ١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، اُلٹی قبر، ١٩٠ ) ٢ - رعب، داب۔  سنبھالا رعیت کو لشکر رکھا عدل سوں ملک میں بڑا ڈر رکھا      ( ١٦٨٢ء، رضوان شاہ و روح افزاء، ١٥ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ جو اردو میں اپنے اصل معنی کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٣٢٤ء میں "خالق باری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوف، خطرہ، اندیشہ، دہشت۔ "اس کے (سوتیلی ماں) ڈر نے امجد کو بچپن ہی سے ڈرپوک بنا دیا تھا۔"      ( ١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، اُلٹی قبر، ١٩٠ )

جنس: مذکر