ڈراؤنا
معنی
١ - ڈرانا، دھمکانا۔ پی کر شراب تم جو ہم کوں ڈراوتے ہو کیا شوق کوں ہمارے بوجھا ہے اور کاسا ( ١٧١٨ء، دیوان آبرو، ١٠٢ ) ١ - خوفناک، بھیانک، ہیبت ناک۔ "یہ پہاڑ ڈراؤنے تھے۔" ( ١٩٨٢ء، پچھتاوے، ٧٤ )
اشتقاق
پراکرت سے ماخوذ اسم 'ڈراو' کے ساتھ 'نا' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے 'ڈراؤنا' بنا۔ اردو میں بطور صفت اور گا ہے بطور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خوفناک، بھیانک، ہیبت ناک۔ "یہ پہاڑ ڈراؤنے تھے۔" ( ١٩٨٢ء، پچھتاوے، ٧٤ )