ڈرانا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - خوف، دلانا، دھمکانا۔  زلفِ محبوب کے جھونکوں نے ڈرا رکھا ہے کالی آندھی سے زیادہ ہے مجھے ہیبتِ شب      ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ٧٠ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ فعل 'ڈرنا' کا تعدیہ ہے جو اردو میں بطور فعل مرکب استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے تحریراً ١٥٦٤ء میں "دیوانِ حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: ڈرنا