ڈراونی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خوف دلانے والی۔ "کیا کرو گے پوچھ کر اس نے اپنی ڈراونی آنکھوں سے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔"      ( ١٩٤٢ء، کرنیں، ١٣٤ ) ٢ - دہشت پھیلانے والی، حوصلہ شکن۔ "فرانس کے لیے یہ خبریں بڑی ڈراونی تھیں۔"      ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ١١٩:٥ ) ٣ - ڈراونے خواب، بلائیں۔ "زچہ پر کوئی جگہ بھاری ہو جاتی ہے تو ڈراؤنیاں آتی ہیں۔"      ( ١٩٧٦ء، اخبار جہاں، کراچی، ١١ فروری، ٢٥ )

اشتقاق

اصلاً ہندی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں ہندی سے ماخوذ ہے عربی رسم الخط کے ساتھ صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٠٧ء کو "امہات الامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوف دلانے والی۔ "کیا کرو گے پوچھ کر اس نے اپنی ڈراونی آنکھوں سے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔"      ( ١٩٤٢ء، کرنیں، ١٣٤ ) ٢ - دہشت پھیلانے والی، حوصلہ شکن۔ "فرانس کے لیے یہ خبریں بڑی ڈراونی تھیں۔"      ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ١١٩:٥ ) ٣ - ڈراونے خواب، بلائیں۔ "زچہ پر کوئی جگہ بھاری ہو جاتی ہے تو ڈراؤنیاں آتی ہیں۔"      ( ١٩٧٦ء، اخبار جہاں، کراچی، ١١ فروری، ٢٥ )

جنس: مؤنث