ڈربا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ڈڑبا، دربا، کا بک۔ "وہ ڈربوں سے مرغیاں ہی نہیں باڑوں سے بھیڑ بکریاں بھی اٹھا کر لے جاتا تھا۔"      ( ١٩٨٠ء، ماس اور مٹی، ٥٤ ) ٢ - [ مجازا ]  اسکول، مکتب، مدرسہ۔ "لوگوں کو دوسرے پیشوں سے بہکا کر پھسلا کر تعلیم کے ڈربے میں ٹھونسا جائے۔"      ( ١٨٩١ء، لکچروں کا مجموعہ، ٢٥٢:١ ) ٣ - [ مجازا ]  انسانی جسم، تن۔  اس میں ہی سب پرند اسی میں چرند ہیں شا جھونپڑا بھی اب اسی ڈربے میں بند ہیں      ( ١٨٣٠ء، نظیر، کلیات، ٢٠٦:٢ )

اشتقاق

پراکرت زبان کے اصل لفظ 'دڑبہ' کی ایک املا 'ڈربا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٣٠ء کو "کلیات نظیر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ڈڑبا، دربا، کا بک۔ "وہ ڈربوں سے مرغیاں ہی نہیں باڑوں سے بھیڑ بکریاں بھی اٹھا کر لے جاتا تھا۔"      ( ١٩٨٠ء، ماس اور مٹی، ٥٤ ) ٢ - [ مجازا ]  اسکول، مکتب، مدرسہ۔ "لوگوں کو دوسرے پیشوں سے بہکا کر پھسلا کر تعلیم کے ڈربے میں ٹھونسا جائے۔"      ( ١٨٩١ء، لکچروں کا مجموعہ، ٢٥٢:١ )

جنس: مذکر