ڈوم
معنی
١ - گانے کا پشہ کرنے والا، میراثی، قوال، گویّا۔ "دیہی معاشرے میں نائی، ڈوم، میراثی اور استا کار کا بہت بڑا مقام ہے۔" ( ١٩٨٢ء، پٹھانوں کے رسم و رواج، ١٠٣ ) ٢ - ایک قوم جو ٹوکریاں اور چٹائیاں وغیرہ بناتی ہے اور مرگھٹوں پر کام کرتی ہے۔ "رات کے دس بجے ہونگے شمشان کے ایک طرف ڈوم نے بے فکری سے کھٹیا بچھاتے ہوئے کبیر کے دوہے کی اونچی تان چھیڑ دی۔" ( ١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ٩٥ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے لفظ 'ڈومب' سے ماخوذ ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨١٣ء میں "چمن دوم رنگین" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گانے کا پشہ کرنے والا، میراثی، قوال، گویّا۔ "دیہی معاشرے میں نائی، ڈوم، میراثی اور استا کار کا بہت بڑا مقام ہے۔" ( ١٩٨٢ء، پٹھانوں کے رسم و رواج، ١٠٣ ) ٢ - ایک قوم جو ٹوکریاں اور چٹائیاں وغیرہ بناتی ہے اور مرگھٹوں پر کام کرتی ہے۔ "رات کے دس بجے ہونگے شمشان کے ایک طرف ڈوم نے بے فکری سے کھٹیا بچھاتے ہوئے کبیر کے دوہے کی اونچی تان چھیڑ دی۔" ( ١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ٩٥ )