ڈونگا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کسی بڑے برتن سے پانی نکالنے کا ڈنڈی دار پیالے کی شکل کا چھوٹا ظرف (حسب ضرورت چھوٹا اور بڑا اور کسی دھات، ناریل کے خول یا تونبے سے بنایا جاتا ہے)، مگا۔ "پانی نکالنے کے ڈونگے ان پر ہر وقت موجود رہیں۔"      ( ١٨٧٤ء، مجالس النسا، ٨٥:١ ) ٢ - برتن جس میں شوربا وغیرہ دسترخوان پر چنتے ہیں، ڈونگی، گہرا پیالہ۔  توانائی ہے اور پُھرتی ہے جسکے دست و بازو میں پلیٹ اس کی ہے چمچہ اس کا ہے ڈونگا اسی کا ہے      ( ١٩٨٦ء، قطع کلامی، ٥٩ ) ٥ - [ مجازا ]  احمق، بے وقوف، بونگا۔ "گھنٹہ بھر سے سمجھا رہے ہیں تمہاری سمجھ ہی میں نہیں آتا آدمی ہو کہ ڈونگا۔"      ( ١٩٦٨ء، مہذب اللغات، ٣٧٧:٥ ) ٦ - ایک وضع کی چھوٹی کشتی، بجرا، ڈونگی۔ "ڈونگا پانی پر تیرتی ہوئی ایک کشتی کو کہتے ہیں جس میں رہنے سہنے کی سہولیات ہوتی ہیں۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٢٩٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٠٢ کو "باغ و بہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی بڑے برتن سے پانی نکالنے کا ڈنڈی دار پیالے کی شکل کا چھوٹا ظرف (حسب ضرورت چھوٹا اور بڑا اور کسی دھات، ناریل کے خول یا تونبے سے بنایا جاتا ہے)، مگا۔ "پانی نکالنے کے ڈونگے ان پر ہر وقت موجود رہیں۔"      ( ١٨٧٤ء، مجالس النسا، ٨٥:١ ) ٥ - [ مجازا ]  احمق، بے وقوف، بونگا۔ "گھنٹہ بھر سے سمجھا رہے ہیں تمہاری سمجھ ہی میں نہیں آتا آدمی ہو کہ ڈونگا۔"      ( ١٩٦٨ء، مہذب اللغات، ٣٧٧:٥ ) ٦ - ایک وضع کی چھوٹی کشتی، بجرا، ڈونگی۔ "ڈونگا پانی پر تیرتی ہوئی ایک کشتی کو کہتے ہیں جس میں رہنے سہنے کی سہولیات ہوتی ہیں۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٢٩٣ )

جنس: مذکر