ڈونگھا
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - گہرا پانی، گہرا گڑھا، چشمہ۔ "اسی کو سلطان باہو نے 'دل دریا سمندروں ڈونگھے' کی تمثیل قرار دیا ہے۔" ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ١٥٨ )
اشتقاق
سنسکرت کے اصل لفظ 'ڈونگا' کی ایک املا 'ڈونگھا' اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ اصل معنی اور اصل حالت میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٦ء کو "فیضان فیض" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گہرا پانی، گہرا گڑھا، چشمہ۔ "اسی کو سلطان باہو نے 'دل دریا سمندروں ڈونگھے' کی تمثیل قرار دیا ہے۔" ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ١٥٨ )
جنس: مذکر