ڈھاب

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - نشیب جہاں پر پانی جمع ہو جائے، جوہڑ، تالاب۔ "اس تازہ اور شفاف پانی نے ایک ہی دن میں لاروے کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ وہ ڈھاب کے کناروں سے جدا نہیں ہوتے۔"      ( ١٩٤٢ء، گرہن، ١٢٨ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے اصل لفظ 'دبھر' سے ماخوذ 'ڈھاب' اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ اصل معنی اور اصل حالت میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٤٢ء کو "گرہن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نشیب جہاں پر پانی جمع ہو جائے، جوہڑ، تالاب۔ "اس تازہ اور شفاف پانی نے ایک ہی دن میں لاروے کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ وہ ڈھاب کے کناروں سے جدا نہیں ہوتے۔"      ( ١٩٤٢ء، گرہن، ١٢٨ )

جنس: مذکر