ڈھانا
قسم کلام: فعل متعدی
معنی
١ - گرانا، منہدم کرنا، برباد کرنا۔ گرم رفتار سبک سیر کے رہوارِ حیات آرزؤں کے گھروندں کو یہ ڈھادے نہ کہیں ( ١٩٨٢ء، میں ساز ڈھونڈتی رہی، ٩٥ ) ٢ - مچانا، برپا کرنا (آفت، مصیبت وغیرہ)۔ ارے اور ظلمِ بے جا ڈھانے والے اہلِ ایماں پر خدارا اک نظر انجامِ عبرتباکِ یوناں پر ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٨٨ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ مصدر ہے جو اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ اپنے اصل معنوں میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٧٥ء کو "نوطرزِ مرصع" میں مستعمل ملتا ہے۔