ڈھلان

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ڈھال، اُتار، ناہموار سطح جو ایک طرف سے اونچی دوسری طرف سے نیچی ہو۔ "ڈھلان کی وجہ سے ٹانگیں پھیلا کر اور ایڑیاں جما کر بیٹھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٢٨ ) ٢ - میلانِ خاطر، طبیعت کا جھکاؤ۔ (مہذب اللغات)

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ فعل لازم ڈَھلنا کا اسم مصدر ہے جو اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٨٩ء کو "مبادی العلوم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ڈھال، اُتار، ناہموار سطح جو ایک طرف سے اونچی دوسری طرف سے نیچی ہو۔ "ڈھلان کی وجہ سے ٹانگیں پھیلا کر اور ایڑیاں جما کر بیٹھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٢٨ )

جنس: مؤنث