ڈھنڈورا

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - دھونسے کی قسم کا باجا لیکن اس کی نسبت بہت چھوٹا اور ہلکا ہوتا ہے جسے آدمی آسانی سے گلے میں ڈال کر بجا سکے۔ "انہوں نے ایک ہی ضرب میں ڈھنڈورے کے چمڑے کو پھاڑ دیا۔"      ( ١٩٧٦ء، نقوش، جنوری، ٢٧٨ ) ٢ - منادی، اعلان، تشہیر۔ "ماس اور مٹی" اردو افسانے کی موت کے خالی ڈھنڈورے میں زندگی کے اعلامیے کی حیثیت رکھتی ہے۔"      ( ١٩٨٠ء، ماس اور مٹی، ١٤٤ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ اسم ہے جو اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٢٥ء کو "سیف الملوک و بدیع الجمال" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دھونسے کی قسم کا باجا لیکن اس کی نسبت بہت چھوٹا اور ہلکا ہوتا ہے جسے آدمی آسانی سے گلے میں ڈال کر بجا سکے۔ "انہوں نے ایک ہی ضرب میں ڈھنڈورے کے چمڑے کو پھاڑ دیا۔"      ( ١٩٧٦ء، نقوش، جنوری، ٢٧٨ ) ٢ - منادی، اعلان، تشہیر۔ "ماس اور مٹی" اردو افسانے کی موت کے خالی ڈھنڈورے میں زندگی کے اعلامیے کی حیثیت رکھتی ہے۔"      ( ١٩٨٠ء، ماس اور مٹی، ١٤٤ )

جنس: مذکر