ڈھولک

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - چھوٹا ڈھول۔  تھاپ پر ڈھولک کی فلمی دھن کا گانا ہی سہی نام اس کا لیکن اے شہباز قوالی تو ہے      ( ١٩٨٢ء، ط ظ، ٩٥ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اسم 'ڈھول' کے آگے لاحقۂ تصغیر 'ک' لگانے سے بنا۔ جو اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٦٢٥ء کو افضل جھنجھانوی کی "بکٹ کہانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: ڈھول
جنس: مؤنث