ڈھولکی

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - چھوٹا ڈھول۔ "بخشا کا ایک جوڑی دار، جو ڈھولکی بجاتا تھا . کراچی میں گمنامی کی موت مر گیا۔"      ( ١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ٤٢ ) ٢ - ڈھول بجانے والا۔

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اسم 'ڈھولک' کے آخر پر 'ی' بطور لاحقۂ تصغیر و فاعلیت لگانے سے بنا جو اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٧٧٨ء کو "گلزارِ ارم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چھوٹا ڈھول۔ "بخشا کا ایک جوڑی دار، جو ڈھولکی بجاتا تھا . کراچی میں گمنامی کی موت مر گیا۔"      ( ١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ٤٢ )

اصل لفظ: ڈھول
جنس: مؤنث