ژولیدہ
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - الجھا ہوا، پریشان، درہم برہم، بکھرا ہوا، تتربتر۔ "ژولیدہ اور پیچیدہ انداز بیان کے سبب مافی الفمیر ادا نہیں ہو پایا۔" ( ١٩٨٥ء، تفہیم اقبال، ١٥ )
اشتقاق
فارسی مصدر 'ژولیدن' سے حالیہ تمام 'ژولیدہ' اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٦٥ء کو "پھول بن" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - الجھا ہوا، پریشان، درہم برہم، بکھرا ہوا، تتربتر۔ "ژولیدہ اور پیچیدہ انداز بیان کے سبب مافی الفمیر ادا نہیں ہو پایا۔" ( ١٩٨٥ء، تفہیم اقبال، ١٥ )