کائنات

قسم کلام: اسم جمع ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - دنیا، جہاں، عالم، کل مخلوقات، موجودات۔  مکرو فریب سے بھری اس کائنات میں اپنا گزر نہیں ارے اپنا گزر نہیں      ( ١٩٨٨ء، مرج البحرین، ٣٧ ) ٢ - جمع پونجی، سرمایہ، ملکیت۔ "میری کل کائنات ایک گھوڑی ہے۔"      ( ١٩٠٤ء، خالد، ١٧ ) ٣ - بساط، حیثیت۔ "یہ ہے گلشن بے خار کی کل کائنات اور شیفتہ تنقیدی بساط۔"      ( ١٩٨٧ء، غالب فکر و فن، ٨٨ ) ٤ - نیست سے ہست ہونے والی چیزیں، پیدا شدہ، اشخاص و اشیا وغیرہ، موجود و مخلوق چیزیں۔ "اگر علت کا عدم فرض کیا جائے تو وہ بھی معدوم ہو جائیں . بخلاف کائنات کے جو فاسد ہونے والے ہیں۔"      ( ١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ٢١١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'کائن' کے ساتھ 'ات' بطور لاحقۂ جمع لگانے سے بنا۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧١٨ء کو "دیوانِ آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - جمع پونجی، سرمایہ، ملکیت۔ "میری کل کائنات ایک گھوڑی ہے۔"      ( ١٩٠٤ء، خالد، ١٧ ) ٣ - بساط، حیثیت۔ "یہ ہے گلشن بے خار کی کل کائنات اور شیفتہ تنقیدی بساط۔"      ( ١٩٨٧ء، غالب فکر و فن، ٨٨ ) ٤ - نیست سے ہست ہونے والی چیزیں، پیدا شدہ، اشخاص و اشیا وغیرہ، موجود و مخلوق چیزیں۔ "اگر علت کا عدم فرض کیا جائے تو وہ بھی معدوم ہو جائیں . بخلاف کائنات کے جو فاسد ہونے والے ہیں۔"      ( ١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ٢١١ )

اصل لفظ: کون