کاتب

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - حمد نگار، مداح، حمدو ثنا لکھنے والا۔  پتہ پتہ کاتب تیرا ذرہ ذرہ طالب تیرا      ( ١٩٨٤ء، الحمد، ٢٤ ) ٢ - معتمد، سیکرٹری۔ "مشہور و معروف استاتذہ سے فارس میں تعلیم پائی پھر دربار شریفی میں کاتب (سیکرٹری) مقرر ہو گیا۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٩:٣ ) ١ - لکھنے والا شخص، جس نے کوئی چیز لکھی یا نقل کی ہو، منشی، محّرر۔ "حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس صلح نامے کے کاتب تھے۔"      ( ١٩٦٣ء، محسن اعظم اور محسنین، ٦٣ ) ٢ - کتابت کا پیشہ کرنے والا، کتابت کرنے والا، خوشنویس۔ "ممکن ہے مخطوطے کے کاتب نے اپنی طرف سے یہ تبدیلی کر دی ہو۔"      ( ١٩٨٢ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ٥٩:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ عربی سے اردو میں حقیقی معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - معتمد، سیکرٹری۔ "مشہور و معروف استاتذہ سے فارس میں تعلیم پائی پھر دربار شریفی میں کاتب (سیکرٹری) مقرر ہو گیا۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٩:٣ ) ١ - لکھنے والا شخص، جس نے کوئی چیز لکھی یا نقل کی ہو، منشی، محّرر۔ "حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس صلح نامے کے کاتب تھے۔"      ( ١٩٦٣ء، محسن اعظم اور محسنین، ٦٣ ) ٢ - کتابت کا پیشہ کرنے والا، کتابت کرنے والا، خوشنویس۔ "ممکن ہے مخطوطے کے کاتب نے اپنی طرف سے یہ تبدیلی کر دی ہو۔"      ( ١٩٨٢ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ٥٩:١ )

اصل لفظ: کتب