کاذب

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جھوٹا، دوروغ گو، مفتری (صادق کی ضد)۔ "اردو میں جھوٹا (واحد) دروغ گو اور کاذب ہوتا ہے۔"      ( ١٩٧٠ء، اردو سندھی لسانی روابط، ٣٠٥ ) ٢ - [ مجازا ]  نقلی، لغو، بیہودہ، باطل۔  وہ بھی جانے کہ کوئی عاشق تھا عشق کاذب تھا یا کہ صادق تھا      ( ١٩٧٩ء، قلق (مہذب اللغات)۔ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ عربی سے اردو میں حقیقی معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جھوٹا، دوروغ گو، مفتری (صادق کی ضد)۔ "اردو میں جھوٹا (واحد) دروغ گو اور کاذب ہوتا ہے۔"      ( ١٩٧٠ء، اردو سندھی لسانی روابط، ٣٠٥ )

اصل لفظ: کذب
جنس: مذکر