کار

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کام، فعل، ہنر، شغل، مشغلہ، پیشہ، دھندا۔ "رات دن سوائے تاتا تھئی، تاتا تھئی کے اور کچھ کار ہی نہ تھا۔"      ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ٣٥ ) ٢ - لکڑی وغیرہ پر نقاشی وغیرہ، صنعت، دستکاری، مینا کاری۔  کمر بند میں کار ہیرے کا تھا گلے میں بھی اک ہار ہیرے کا تھا      ( ١٨٨٠ء، طلسم مضاحت، ٢١٩ ) ٣ - معاملہ، مسئلہ، امر۔  غافل از کار یہ ستم دیدہ تھا جو باتوں میں اس کی گرویدہ      ( ١٨١٠ء، بحرالمحبت، ٥٨ ) ٤ - شادی یا تقریب، بیاہ کی تقریب۔ "ماشاء اللہ چھوٹے نواب کا کارکب کرنے کا ارادہ ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، اجڑا دیار، ٢٢٣ )

اشتقاق

فارسی زبان میں مصدر 'کردن' سے مشتق حاصل مصدر ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوانِ حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کام، فعل، ہنر، شغل، مشغلہ، پیشہ، دھندا۔ "رات دن سوائے تاتا تھئی، تاتا تھئی کے اور کچھ کار ہی نہ تھا۔"      ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ٣٥ ) ٤ - شادی یا تقریب، بیاہ کی تقریب۔ "ماشاء اللہ چھوٹے نواب کا کارکب کرنے کا ارادہ ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، اجڑا دیار، ٢٢٣ )

اصل لفظ: کردن
جنس: مذکر