کارزار
قسم کلام: اسم ظرف مکان
معنی
١ - جنگ، معرکہ، لڑائی، مقابلہ۔ "ہر سمت انہوں نے اردو کی خاطر ایک میدانِ کارزار گرم کر دیا تھا۔" ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٣٤٧ )
اشتقاق
فارسی زبان میں 'کردن' مصدر سے حاصل مصدر 'کار' کے بعد فارسی ہی سے ماخوذ لاحقہ ظرفیت 'زار' لانے سے مرکب ہوا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جنگ، معرکہ، لڑائی، مقابلہ۔ "ہر سمت انہوں نے اردو کی خاطر ایک میدانِ کارزار گرم کر دیا تھا۔" ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٣٤٧ )
جنس: مذکر