کارستانی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ہوشیاری، ہنرمندی، چالاکی، عیاری؛ سازش۔ "یہ کارستانی خود حاجی صاحب کی تو نہیں تھی۔"      ( ١٩٨٧ء، گلی گلی کہانیاں، ٥٣ )

اشتقاق

فارسی زبان میں کردن مصدر سے حاصل مصدر 'کار' کو فارسی لاحقہ ظرفیت 'ستان' سے ملا کر اس کے بعد 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے مرکب بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہوشیاری، ہنرمندی، چالاکی، عیاری؛ سازش۔ "یہ کارستانی خود حاجی صاحب کی تو نہیں تھی۔"      ( ١٩٨٧ء، گلی گلی کہانیاں، ٥٣ )

جنس: مؤنث