کارواں

قسم کلام: اسم جمع ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - اونٹوں کی قطار، گھوڑوں کا گلہ۔  یہ ویرانہ، گزر، جس میں نہیں ہے کاروانوں کا جہاں ملتا نہیں نام و نشان تک ساربانوں کا      ( ١٩٤٦ء، اخترستان، ٦٣ ) ٢ - قافلہ، مسافروں کی جماعت، گروہ، سوداگروں کا گروہ۔  نہ ایک پل کوئی ٹھہرا خرابۂ دل میں وگرنہ روز گذرتے ہیں کارواں والے      ( ١٩٨٥ء، خواب درخواب، ٥٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔