کاروبار

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - "کام کاج، بیوپار، مشاغل، دھندے۔" "عام مفاد کے لیے انفرادی کاروبار میں اسلامی مملکت شرع کی رُو سے مداخلت کر سکتی ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٩١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'کار' کے بعد 'و' بطور حرف عطف لگا کر ہندی سے ماخوذ اسم 'بار' لگانے سے مرکب عطفی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٧٨ء کو "کلیات غواصی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - "کام کاج، بیوپار، مشاغل، دھندے۔" "عام مفاد کے لیے انفرادی کاروبار میں اسلامی مملکت شرع کی رُو سے مداخلت کر سکتی ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٩١ )

جنس: مذکر