کارکردگی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کام کی انجام دہی، تجربہ کاری، کام کرنا۔ "اس سے معاشرہ میں مواد اور کارکردگی کے انداز میں عظیم تبدیلیاں رونما ہونی شروع ہوتی ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٦٧ ) ٢ - (کیے ہوئے) کام کی خوبی، اچھائی اور مقدار وغیرہ۔ "اس ادارے کی کارکردگی تمام توقعات سے بھی زیادہ ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، وفاقی محتسب کی سالانہ رپورٹ، ٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'کار' کے ساتھ فارسی مصدر 'کردن' کے صیغۂ حالیہ تمام 'کردہ' کی 'ہ' حذف کر کے 'گی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩٣٨ء، کو "تعلیمی خطبات (ذاکر حسین)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کام کی انجام دہی، تجربہ کاری، کام کرنا۔ "اس سے معاشرہ میں مواد اور کارکردگی کے انداز میں عظیم تبدیلیاں رونما ہونی شروع ہوتی ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٦٧ ) ٢ - (کیے ہوئے) کام کی خوبی، اچھائی اور مقدار وغیرہ۔ "اس ادارے کی کارکردگی تمام توقعات سے بھی زیادہ ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، وفاقی محتسب کی سالانہ رپورٹ، ٣ )

جنس: مؤنث