کاسہ
معنی
١ - پیالہ، بادیہ، پیمانہ، جام، کٹورا۔ کیا خوں بھی معاف اور یہ خطا بھی مئے احساں سے تھے لبریز کاسے ( ١٩٣١ء، بہارستان، ١٠٣ ) ٢ - بھیک کا ٹھیکرا، کجکول، کشکول۔ رحمت کی نظر گدا پہ تیری ہو اگر یہ کاسۂ فقر جامِ جم ہو جائے ( ١٩٨٧ء، تذکر شعرائے بدایوں (سلیمان) ٤٢٦ ) ٤ - جلترنگ۔ "کاسۂ اہل ہند اس کو جلترن کہتے ہیں . لکڑی انپر مارتے ہیں تو رنگیں آواز ان میں نکلتی ہے۔" ( ١٨٤٥ء، مطلع العلوم (ترجمہ)، ٣٤٥ ) ٦ - سر کی ہڈی کا پیالہ نما خول، کھوپڑی، کاسۂ سر۔ اور اس خاکِ سیاہ پر تو نشان کف پاتک بھی نہیں اجڑے بے برگ درختوں سے فقط کاسہ سر آویزاں ( ١٩٨٦ء، ن م راشد کا ایک مطالعۂ، ٣٧٣ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٤ - جلترنگ۔ "کاسۂ اہل ہند اس کو جلترن کہتے ہیں . لکڑی انپر مارتے ہیں تو رنگیں آواز ان میں نکلتی ہے۔" ( ١٨٤٥ء، مطلع العلوم (ترجمہ)، ٣٤٥ )