کاشف

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - (پوشیدہ شے یا امر کو) کھولنے والا، ظاہر کرنے والا۔  مانع دیدار تھے تجھ کو حجابات نظر یہ جہانِ غم بھی ورنہ کاشفِ انوار تھا      ( ١٩٢٩ء، متاع درد، ٨٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ عربی سے اردو میں حقیقی معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیاتِ ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: کشف
جنس: مذکر