کاظم

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - غصہ پی جانے والا، ضبط کرنے والا، نرم مزاج۔  ترے ہی واسطے یہ غم یہ غصہ کھاتا ہوں گواہ دعوے کا کاظم کو اپنے لاتا ہوں      ( ١٨١٠ء، کلیات میر، ١٣٣٧ ) ٢ - امام موسٰی رضا کا لقب۔ "کاظم کا لقب ان کے صبر و تحمل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، روح اسلام، ٥١٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - امام موسٰی رضا کا لقب۔ "کاظم کا لقب ان کے صبر و تحمل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، روح اسلام، ٥١٣ )

اصل لفظ: کظم
جنس: مذکر