کاغذ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مختلف اشیاء سے کوٹ پیس کر تیار کردہ پتر یا ورق، تاو جس پر لکھتے ہیں۔ "نامیاتی مرکبات . ربڑ، کاغذ، پلاسٹک اور تالیفی ریشوں کی مختلف صنعتوں میں استعمال ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، نامیاتی کیمیا، ١٠ ) ٢ - خط، مکتوب۔  مجکو اس شوخ نے لکھ کر نہیں بھیجا کاغذ نامہ لایا ہے تو پھیر کے میرا کاغذ      ( ١٩٣٦ء، شعاع مہر، ٤٣ ) ٣ - تحریر، نوشتہ، پرچہ (لکھا ہوا) نیز اجازت نامہ۔ "ریسٹ ہاؤس کا چوکیدار . کاغذ کے بغیر اور صاحب کی تحریری اجازت بنا کمرہ کھولنے پر رضامند نہ ہوتا تھا۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٤٧ ) ٤ - اخبار "بیکنگھم صاحب . نے اپنے کاغذ اورینٹل آبزرور میں ان سب خرابیوں کا حال . لکھا ہے۔"      ( ١٨٩٦ء، سوانحات سلاطین اودھ، ١٨٧:١ ) ٥ - اسٹامپ (جس پر تمسک وغیرہ لکھا جاتا ہے)۔ "اگر وہ لوگ کاغذ دست آویز اپنے روپیہ سے خرید لیتے تو غالباً دو تین ہی دنوں میں کاغذ مرتب ہو جاتا۔"    ( ١٩٥٨ء، شاد کی کہانی شاد کی زبانی، ٢٢ ) ٦ - تمسک، دستاویز، قبالہ (جو سند کے طور پر لکھا جائے)، اقرارنامہ، کرایہ نامہ، سرخط وغیرہ (اسٹامپ پر یا سادے فارم پر)۔ "نکاح کے کاغذ پہ دولہا کی مہر لوگوں کی گواہیاں ہوئیں۔"    ( ١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ٥٥ ) ٧ - (حساب کتاب یا دوسرے ذاتی کاموں کی) فہرست یا فائل وغیرہ، رجسٹر روزنامچہ، بہی کھاتہ وغیرہ نیز اعمال نامہ (بیشتر جمع میں)۔ "مجھے سارے حساب کے کاغذ منگوا دو۔"      ( ١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ٧٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم جامد ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوانِ حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مختلف اشیاء سے کوٹ پیس کر تیار کردہ پتر یا ورق، تاو جس پر لکھتے ہیں۔ "نامیاتی مرکبات . ربڑ، کاغذ، پلاسٹک اور تالیفی ریشوں کی مختلف صنعتوں میں استعمال ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، نامیاتی کیمیا، ١٠ ) ٣ - تحریر، نوشتہ، پرچہ (لکھا ہوا) نیز اجازت نامہ۔ "ریسٹ ہاؤس کا چوکیدار . کاغذ کے بغیر اور صاحب کی تحریری اجازت بنا کمرہ کھولنے پر رضامند نہ ہوتا تھا۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٤٧ ) ٤ - اخبار "بیکنگھم صاحب . نے اپنے کاغذ اورینٹل آبزرور میں ان سب خرابیوں کا حال . لکھا ہے۔"      ( ١٨٩٦ء، سوانحات سلاطین اودھ، ١٨٧:١ ) ٥ - اسٹامپ (جس پر تمسک وغیرہ لکھا جاتا ہے)۔ "اگر وہ لوگ کاغذ دست آویز اپنے روپیہ سے خرید لیتے تو غالباً دو تین ہی دنوں میں کاغذ مرتب ہو جاتا۔"    ( ١٩٥٨ء، شاد کی کہانی شاد کی زبانی، ٢٢ ) ٦ - تمسک، دستاویز، قبالہ (جو سند کے طور پر لکھا جائے)، اقرارنامہ، کرایہ نامہ، سرخط وغیرہ (اسٹامپ پر یا سادے فارم پر)۔ "نکاح کے کاغذ پہ دولہا کی مہر لوگوں کی گواہیاں ہوئیں۔"    ( ١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ٥٥ ) ٧ - (حساب کتاب یا دوسرے ذاتی کاموں کی) فہرست یا فائل وغیرہ، رجسٹر روزنامچہ، بہی کھاتہ وغیرہ نیز اعمال نامہ (بیشتر جمع میں)۔ "مجھے سارے حساب کے کاغذ منگوا دو۔"      ( ١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ٧٣ )

جنس: مذکر