کافر

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - خدا کو نہ ماننے والا شخص، منکرِ خدا، بے دین، ملحد، وجودِ خداوندی سے انکار کرنے والا۔ "منکروں، مشرکوں اور کافروں تک کی بھی خدا نے مدد کی ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٧١ ) ٢ - [ مجازا ]  معشوق، محبوب۔  دیکھتا کیا ہے اس طرح نادان حسنِ کافر ہے کافرِ ایماں      ( ١٩٨٣ء، حصار انا، ١٩٣ ) ٣ - [ تصوف ]  وہ جو کفر حقیقی رکھتا ہو (کفر حقیقی یہ ہے کہ ذاتِ محض کو ظاہر کرے) وہ شخص جو وحدت میں یکرنگ ہو کر ماسوٰی اللہ سے پاک ہو گیا ہو۔ (ماخوذ: مصباح التعرف، 203 نیز 206) ٤ - سرحد اور نواحِ کابل کی ایک قوم جس کی زبان کو کافری بولی کہتے ہیں۔ "بلوچستان کے براہوی، سرحد کے کافر، سندھ کے کٹودی اور پنجاب کے باوریے اس کی زندہ مثالیں ہیں۔"      ( ١٩٧٢ء، اردو زبان کی قدیم تاریخ، ١٢٧ ) ٥ - کافرستان کی ایک زبان کا نام۔ "پشاجی خاندان کی کشمیری، ثنا، کافر اور چترالی وغیرہ کو ہندوستان کے ایک بڑے علاقے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔"      ( ١٩٤٨ء، ہندوستانی لسانیات کا خاکہ (مقدمہ)، ٢٩ ) ١ - [ مجازا ]  عاشق، شیدا، دیوانہ۔  تجہ نین ماتا جو کوئی تس جام سیتی کام کیا تجہ زلف کا کافر جِنے اسلام سیتی کا کیا      ( ١٥٦٤ء، دیوانِ حسن شوقی، ١٤٥ ) ٢ - ناشکرا، کفرانِ نعمت کرنے والا، ناسپاس۔ "اسی طرح گروہِ دولتمندوں میں شاکر ہیں اور کافر۔"      ( ١٨٤٤ء، ترجمہ گلستان (حسن علی)، ١٢٥ ) ٣ - ظالم، بے رحم، شوخ۔  یہ کس کافر سے اپنے دل کا سودا کر لیا تم نے زمانے میں اثر تم سا بھی کوئی بےزباں ہو گا      ( ١٩٨٣ء، حصار انا، ٩٤ ) ٤ - کم بخت، بد (نفرت اور کراہیت کے موقع پر مستعمل۔  اے ذوق اتنا دختر رز کو نہ منہ لگا چھٹتی نہیں ہے مُنہ سے یہ کافر لگی ہوئی    ( ١٨٥٤ء، دیوان ذوق، ١٩٠ ) ٥ - دلکش، حسین، غضب کا، جیسے: کافر آواز، پیار کے طور پر دُشنام، عمدہ، پسندیدہ۔  بعد بارش ہر جگہ قوس قزح کے سامنے کیا نظر آتی ہے کافر دھوپ سونے کا ورق    ( ١٨٨٦ء، دیوانِ سخن، ١٢٢ ) ٦ - سخت، سنگین۔ "اس کا غصّہ وہ کافر غصہ ہے کہ جس کی کوئی روک نہیں۔"    ( ١٩٢٣ء، مخدّرات، ٤:٢ ) ٧ - وہ جو خدا کی جگہ کسی کے عشق کا بندہ ہو۔  کافر عشق سے خالی نہ رہے گی دُنیا کوئی ہو جائے گا اللہ کا بندہ پیدا      ( ١٩١٩ء، درشہوار بے خود، ٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوانِ حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خدا کو نہ ماننے والا شخص، منکرِ خدا، بے دین، ملحد، وجودِ خداوندی سے انکار کرنے والا۔ "منکروں، مشرکوں اور کافروں تک کی بھی خدا نے مدد کی ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٧١ ) ٤ - سرحد اور نواحِ کابل کی ایک قوم جس کی زبان کو کافری بولی کہتے ہیں۔ "بلوچستان کے براہوی، سرحد کے کافر، سندھ کے کٹودی اور پنجاب کے باوریے اس کی زندہ مثالیں ہیں۔"      ( ١٩٧٢ء، اردو زبان کی قدیم تاریخ، ١٢٧ ) ٥ - کافرستان کی ایک زبان کا نام۔ "پشاجی خاندان کی کشمیری، ثنا، کافر اور چترالی وغیرہ کو ہندوستان کے ایک بڑے علاقے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔"      ( ١٩٤٨ء، ہندوستانی لسانیات کا خاکہ (مقدمہ)، ٢٩ ) ٢ - ناشکرا، کفرانِ نعمت کرنے والا، ناسپاس۔ "اسی طرح گروہِ دولتمندوں میں شاکر ہیں اور کافر۔"      ( ١٨٤٤ء، ترجمہ گلستان (حسن علی)، ١٢٥ ) ٦ - سخت، سنگین۔ "اس کا غصّہ وہ کافر غصہ ہے کہ جس کی کوئی روک نہیں۔"    ( ١٩٢٣ء، مخدّرات، ٤:٢ )

اصل لفظ: کفر