کافور

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - دور، نیز غائب۔ "خدا کی قدرت کہ پرچہ نکلتے ہی وہ رنگ جما کہ مایوسیاں دور اور بدگمانیاں کافور۔"      ( ١٩٣٧ء، انشائے ماجد، ١٧٩:٢ ) ١ - سفید اور تیز خوشبو کا گوند (ریزش) جو اس نام کے درخت کی سفید لکڑی سے نکلتا ہے، کھلا رہنے سے اور آنچ پاکر اڑ جاتا ہے، عموماً مُردے کے جسم پر ملتے ہیں، پھوڑے پھنسی کے مرہم میں ڈالتے ہیں اور اونی کپڑوں میں رکھتے ہیں، جس سے کپڑا نہیں لگتا، کپور۔ "اسی طرح کافور جیسی عام استعمال کی چیز بھی . قدرتی نامیاتی مرکب ہے۔"      ( ١٩٨٠ء، نامیاتی کیمیا، ٣٦٥ ) ٢ - جنت میں موجود تین چشموں میں سے ایک کا نام۔ "بہشت میں تین چشمے جاری ہیں، ایک کا نام کافور اور دوسرے کا نام زنجیل اور تیسرے کا نام سلسبیل ہے۔"      ( ١٨٤٨ء، بہشت نامہ، ٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم جامد ہے۔ عربی سے اردو میں حقیقی معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "رسالہ فقۂ دکنی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دور، نیز غائب۔ "خدا کی قدرت کہ پرچہ نکلتے ہی وہ رنگ جما کہ مایوسیاں دور اور بدگمانیاں کافور۔"      ( ١٩٣٧ء، انشائے ماجد، ١٧٩:٢ ) ١ - سفید اور تیز خوشبو کا گوند (ریزش) جو اس نام کے درخت کی سفید لکڑی سے نکلتا ہے، کھلا رہنے سے اور آنچ پاکر اڑ جاتا ہے، عموماً مُردے کے جسم پر ملتے ہیں، پھوڑے پھنسی کے مرہم میں ڈالتے ہیں اور اونی کپڑوں میں رکھتے ہیں، جس سے کپڑا نہیں لگتا، کپور۔ "اسی طرح کافور جیسی عام استعمال کی چیز بھی . قدرتی نامیاتی مرکب ہے۔"      ( ١٩٨٠ء، نامیاتی کیمیا، ٣٦٥ ) ٢ - جنت میں موجود تین چشموں میں سے ایک کا نام۔ "بہشت میں تین چشمے جاری ہیں، ایک کا نام کافور اور دوسرے کا نام زنجیل اور تیسرے کا نام سلسبیل ہے۔"      ( ١٨٤٨ء، بہشت نامہ، ٨ )